ابنا: ذرائع کے مطابق یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے امور کی سربراہ کیتھرین اشٹن نے کہا ہے کہ شام میں صدارتی انتخابات کا کوئی اعتبار نہیں اور ان انتخابات سے بحران شام کے سیاسی راہ حل کے حصول کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔ اس سے قبل امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے حکام اور اسی طرح اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بانکی مون نے بھی، جو ہمیشہ بڑی طاقتوں کے مفادات کے درپے رہتے ہیں، شام میں صدارتی انتخابات کے فیصلے پر تنقید کی تھی اور ان انتخابات کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔قابل ذکر ہے کہ شام کے پارلیمانی اسپیکر نے اعلان کیا ہے کہ شام میں صدارتی انتخابات گیارہ جون کو ہوں گے جن کیلئے نامزد امیدواروں کے ناموں کے اندراج کا عمل بھی شروع ہوگیا ہے۔واضح رہے کہ اخبار ڈیلی ٹیلیگراف نے اپنی حالیہ ایک رپوٹ میں شام کے صدر بشار اسد کی مقبولیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ اگر ابھی انتخابات ہوجائیں تو ایکبار پھر بشار اسد ہی کامیاب ہوں گے۔
.......
/169